5 اشعار

کس رقص جان و تن میں مرا دل نہیں رہا

Kis raqs-e-jaan-o-tan mein mera dil nahin raha

کس رقص جان و تن میں مرا دل نہیں رہاگو میں کسی جلوس میں شامل نہیں رہا

ہر چند تیری روح کا محرم رہا ہوں میںلیکن ترے بدن سے بھی غافل نہیں رہا

تجھ سے کوئی گلہ ہے نہ تیری وفا سے ہےمیں ہی ترے خیال کے قابل نہیں رہا

باہر چہک رہی ہو کہ اندر مہک رہیدل اب کسی بہار کا قائل نہیں رہا

یارو سفینۂ غم دل کا بنے گا کیالگتا ہے اب کہیں کوئی ساحل نہیں رہا

— احمد مشتاق