5 اشعار

ٹوٹ گیا ہوا کا زور سیل بلا اتر گیا

Toot gaya hawa ka zor, sail-e-bala utar gaya

ٹوٹ گیا ہوا کا زور سیل بلا اتر گیاسنگ و کلوخ رہ گئے لہر گئی بھنور گیا

وہ بھی عجیب دور تھا دل کا چلن ہی اور تھاشام ہوئی تو جی اٹھا صبح ہوئی تو مر گیا

کس کے بندھے ہوئے تھے ہم دامن ماہتاب سےہم بھی ادھر ادھر گئے چاند جدھر جدھر گیا

کتنے رفیق و ہم سفر جن کی ملی نہ کچھ خبرکس کے قدم اٹھے کدھر کون کہاں پسر گیا

بجھ گئی رونق بدن اڑ گیا رنگ پیرہنجان امیدوار من وقت بہت گزر گیا

— احمد مشتاق