7 اشعار

مسلسل یاد آتی ہے چمک چشم غزالاں کی

Musalsal yaad aati hai chamak chashm-e-ghazalan ki

مسلسل یاد آتی ہے چمک چشم غزالاں کیاکیلی ذات ہے اور رات ہے جنگل بیاباں کی

ذرا دیکھو ہوائے صبح کیسے کھینچ لائی ہےاکیلی پنکھڑی میں دل کشی سارے گلستاں کی

انہیں گلیوں میں کھلتے تھے ملاقاتوں کے دروازےانہیں گلیوں میں چلتی ہیں ہوائیں شام ہجراں کی

کوئی ذرے کو ذرہ ہی سمجھ کر چھوڑ دیتا ہےکسی کو سوجھتی ہے اس سے تعمیر بیاباں کی

یہ وہ موسم ہے جس میں کوئی پتا بھی نہیں ہلتادل تنہا اٹھاتا ہے صعوبت شام ہجراں کی

یہی کافی ہے دل سے مدتوں کا بوجھ تو اتراچلو اس چشم گریاں نے کوئی مشکل تو آساں کی

ستارے درد کی آواز سے غافل نہیں رہتےدم آہو سے روشن مشعلیں ریگ بیاباں کی

— احمد مشتاق