5 اشعار

وہی ان کی ستیزہ کاری ہے

Wahi un ki sateza-kari hai

وہی ان کی ستیزہ کاری ہےوہی بے چارگی ہماری ہے

وہی ان کا تغافل پیہموہی اپنی گلہ گزاری ہے

وہی رخسار و چشم و لب ان کےوہی بے چہرگی ہماری ہے

حسن ہو خیر ہو صداقت ہوسب پہ ان کی اجارہ داری ہے

ہاتھ اٹھا توسن تخیل سےیہ کسی اور کی سواری ہے

— احمد مشتاق