7 اشعار

گزر گئی ہے ابھی ساعت گزشتہ بھی

Guzar gayi hai abhi sa'at-e-guzishta bhi

گزر گئی ہے ابھی ساعت گزشتہ بھینظر اٹھا کہ گزر جائے گا یہ لمحہ بھی

بہت قریب سے ہو کر گزر گئی دنیابہت قریب سے دیکھا ہے یہ تماشا بھی

گزر رہے ہیں جو بار نظر اٹھائے ہوئےیہ لوگ محو تماشا بھی ہیں تماشا بھی

وہ دن بھی تھے کہ تری خواب گیں نگاہوں سےپکارتی تھی مجھے زندگی بھی دنیا بھی

جو بے ثباتئ عالم پہ بحث تھی سر بزممیں چپ رہا کہ مجھے یاد تھا وہ چہرا بھی

کبھی تو چاند بھی اترے گا دل کے آنگن میںکبھی تو موج میں آئے گا یہ کنارا بھی

نکال دل سے گئے موسموں کی یاد اجملؔتری تلاش میں امروز بھی ہے فردا بھی

— اجمل سراج