7 اشعار

عشق سے عقل کا فقدان خریدا ہم نے

Ishq se aql ka fuqdan khareeda hum ne

عشق سے عقل کا فقدان خریدا ہم نےاور وہ بھی علی الاعلان خریدا ہم نے

ہم نے پتھر بھی خریدا تو وہ آئینہ تھاکبھی یاقوت نہ مرجان خریدا ہم نے

بھولنے کے لیے وہ ساعت پیمان الستوقت سے اک نیا پیمان خریدا ہم نے

شور اٹھا تھا کہ نابود ہوا ہے کوئیجب ترے وصل کا ارمان خریدا ہم نے

کتنے لمحات کو اپنے لیے دشوار کیاتب کوئی لمحۂ آسان خریدا ہم نے

بند ہونے کو دکاں ہے تو خیال آیا ہےفائدہ چھوڑ کے نقصان خریدا ہم نے

فیس بھرنے کے لیے جیب میں پیسے بھی نہ تھےجن دنوں میرؔ کا دیوان خریدا ہم نے

— اجمل سراج