8 اشعار

وہ خوش انداز و خوش اطوار کہیں ملتے ہیں

Woh khush andaaz o khush atwaar kahin milte hain

وہ خوش انداز و خوش اطوار کہیں ملتے ہیںزندگی تیرے پرستار کہیں ملتے ہیں

جیسے اک موڑ پہ ملتے ہیں کہیں شام و سحراس طرح بھی دل و دل دار کہیں ملتے ہیں

جیسی آنکھیں ہیں تری اور یہ دل ہے جیساایسے شرمندۂ اظہار کہیں ملتے ہیں

ایک دیوانۂ دنیا کا تھا جنت سے سوالکیا یہاں درہم و دینار کہیں ملتے ہیں

کسی بازار میں ملتی ہے جنوں نام کی شےحوصلے عشق کے تیار کہیں ملتے ہیں

ڈھونڈ لے ڈھونڈ سکے کوئی اگر راہ فرارایک جانب در و دیوار کہیں ملتے ہیں

تم سے ملنا بھی ہے ملنا بھی نہیں ہے تم سےآؤ تم سے سر بازار کہیں ملتے ہیں

یا تری بزم میں ہیں یا مرے دل میں اجملؔزندگی کے اگر آثار کہیں ملتے ہیں

— اجمل سراج