7 اشعار

ہم پس وہم و گماں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

Hum pas-e-wahm-o-gumaan bhi dekh lete hain tujhe

ہم پس وہم و گماں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھےدیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

دیکھ لیتے ہیں تجھے دل کے دریچے کھول کرتوڑ کر دیوار جاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

دیکھ لیتے ہیں تجھے ہم تو تہ گرداب بھیاور پس موج رواں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

دیکھ لیتے ہیں تجھے ہم قہقہوں کی گونج میںآنسوؤں کے درمیاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

دیکھتے ہیں جب تجھے ہم تو ہمارے ساتھ ساتھیہ زمین و آسماں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

چلتے رہتے ہیں جہاں تک تو نظر آتا نہیںٹھیر جاتے ہیں جہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

بات تو یہ ہے کہ اجملؔ تو کہاں ہوتا نہیںتو کہیں بھی ہو کہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

— اجمل سراج