تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
کلام: دلاور علی آزر
تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہےدیکھنا یہ ہے کہ اے دل ترا کیا بنتا ہے
کاش وہ شخص بڑا ہو کے دِکھائے بھی کبھیسامنے سب کے جو ہر وقت بڑا بنتا ہے
اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)
مہمان شاعر: دلاور علی آزر
تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہےدیکھنا یہ ہے کہ اے دل ترا کیا بنتا ہے
کاش وہ شخص بڑا ہو کے دِکھائے بھی کبھیسامنے سب کے جو ہر وقت بڑا بنتا ہے
سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیامُشکل تھا کھیل کھیلنا، کھیلا نہیں گیا
ڈر تھا کہ موت راہ میں بیٹھی نہ ہو کہیںمیں زندگی کی سمت اکیلا نہیں گیا
اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہیکچھ خواب ابھی ادھورے ہیں
کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیںکچھ قرض ابھی چکانے ہیں