نظم 11 اشعار

ٹیپو

Tipu

اٹھا وہ خاک سرنگا پٹم سے مرد جریبدیسیوں کی حکومت تھی لرزہ بر اندام

وہ اولین مجاہد کہ جس نے فرمایارہے گا ہند نہ ہرگز فرنگیوں کا غلام

پڑھائی اہل وطن کو نماز آزادیسکھائے جس نے ہمیں اس کے سب سجود و قیام

بنائے طرز نوی جس نے کی تھی مستحکمبدل کے رکھ دیا جس نے قدامتوں کا نظام

فلاح قوم کا جس نے کیا بلند علمرہی تھی جس کو مقدم ہمیشہ خیر انام

وہ جاں فروش دلارا دکن کے حیدر کاجو اپنی ذات سے خود تھا مجاہدوں کا امام

کہا یہ جس نے کہ اہل وطن کا ہے یہ وطننہ غاصبوں کا نہ اغیار کا ہے کوئی مقام

گواہ عظمت ٹیپو ہے رود کاویرییہیں ہوا تھا نبرد آزما وہ خوش فرجام

شہید کا اسے دیتی ہے مرتبہ تاریخبہ کیش صدق و صفا ہے یہی بڑا انعام

ازل سے بات چلی آئی ہے زمانے میںجو نیک بندے ہیں ہوتا ہے ان کا نیک انجام

منار مسجد جامع سے دے رہا ہوں صدادکن کی خاک کے ذرو تمہیں ہزار سلام

— عرش ملسیانی