نظم 37 اشعار

مالک رام

Malik Ram

صاحب ملک علم مالک راممالک ملک حلم مالک رام

مولد‌ پاک پھالیہ کی زمیںہیر و رانجھا کی سر زمیں کے قریں

شہر گجرات میں رہے ہے یہ مقیمارض لاہور میں ہوئی تعلیم

نیکی و خیر و خلق میں فیاضدوستی کے بہت بڑے نباض

کارواں کارگاہ حکمت کےلعل اک معدن محبت کے

طلبا کے شفیق و یاور ہیںبحر تحقیق کے شناور ہیں

اکمل و افضل و علیم و خطیباکرم و اعظم و شریف و نحیف

صاحب فقر و بندۂ درویشدوستوں کے بڑے عقیدے کیش

ان کے مسلک میں بے ریائی ہےان کی رندی میں پارسائی ہے

نثر میں ان کی نظم کی بو باسنظم کی انتہا کے رمز‌‌ شناس

کس قدر آن بان ہے ان کیبے نیازانہ شان ہے ان کی

اب بھی چہرے پہ ہے شباب کا نورسربسر علم کی شراب کا نور

بات کرنے میں پھول جھڑتے ہیںکبھی لڑتے نہ یہ جھگڑتے ہیں

علم کی جستجو پہ جان نثاربہر تحقیق روز و شب بیدار

راہ تحقیق پہ چلے ہیں مدامچھان ڈالے عراق و مصر و شام

جرمنی روس بلجیم لندنہر جگہ دیکھے علم کے معدن

کارواں علم کا ہے تیز خراماور اس کے امیر مالک رام

صاحب علم و صاحب اخلاقدوستی میں یہ فرد خلق میں طاق

آشتی اور علم کا اک گنجان سے پہنچا نہیں کسی کو رنج

رمز داں ہیں یہ فکر غالب کےہیں مصنف یہ ذکر غالب کے

محترم دوست عرش فرشی کےہیں مرتب یہ نذر عرشی کے

ہیں بہ ہر رنگ عالموں کے حبیبنذر ذاکر انہوں نے دی ترتیب

عربی فارسی ہو یا اردوان کی باتوں میں سب کی ہے خوشبو

ان کی تصنیف عورت اور اسلامپائے گی دہر میں بقائے دوام

خوب لکھا تلامذہ کا حالخاندان اسد کا حسن مقال

گل رعنا ہے نسخۂ ارتنگیہ بھی با کیف ہے گل صد رنگ

برتنا بم کہ ارمغاں بہ‌ دہمبس غنیمت کہ قلب و جاں بدہم

علم را دادہ از نظر تمکیںرہنمائے براہ علم و یقیں

ذہن فرخندہ مغز تابندہباد در شہر علم پایندہ

رو راز حرص و آز و طمع و ہوسنیک خو نیک قلب و نیک نفس

شہر نا مردمان و ہد آزادبس ہمیں مرد است خوش اطوار

ملک معنی کا بادشاہ ہے یہشہر انشا کا کج کلاہ ہے یہ

ختم ہے عرش اب دعا پہ کلامیہ رہیں با مراد و شاد مدام

حسن سیرت کی شمع جلتی رہےشاخ امید اور پھلتی رہے

زندگی کو ملے نشاط تمامپر ہمیشہ رہے سرور کا جام

نور خورشید کی طرح دمکےعلم و تحقیق کی ضیا چمکے

علم کی روشنی بڑھاتے رہیںہم کو بھی کچھ نہ کچھ سکھاتے رہیں

— عرش ملسیانی