نظم 13 اشعار

جواہر لال

Jawahar Lal

اسی سے تازہ ہوئی رسم نیکی و خوبیاسی کے دم سے وطن پر تھا رحمتوں کا نزول

علم اٹھا کے چلا تھا وہ امن عالم کازمانے بھر کے لئے اس نے رکھا ایک اصول

بھری تھی ذات میں اس کی بڑی بڑی تاثیرقبول بات ہوئی اس کی خود ہوا مقبول

مقام اس کا مشاہیر کی صف اولہر ایک حرف پسندیدہ ہر سخن مقبول

نہ گرد غم سے ہوا اس کا قلب آلودہنہ اس کے چہرے پہ دیکھی کبھی ملال کی دھول

دیار ہند کا کردار ساز نیک سرشتوہ راحتوں کا پیمبر وہ نیکیوں کا رسول

فضائیں جس سے معطر ہیں اور عنبر‌‌ ریزمہک رہا ہے وطن میں وہی گلاب کا پھول

مزاج جس کا محبت تھا اور شگفتہ دلشعار جس کا شرافت تھا مستقل معمول

قدم پہ اس کے فدا دانش اور علم و یقیںہزار کہتے ہیں انسان کو ظلوم و جہول

مشام جان جہاں مشک بار ہے جس سےہر ایک برگ پہ رنگ بہار ہے جس سے

جمالیات کا گھر کوہسار ہے جس سےسبو بدوش ہر اک بادہ خوار ہے جس سے

کرم ہے ساقئ مے خانہ کا بہت گل ریزہوائیں جس سے معطر ہیں اور عنبر ریز

مہک رہا ہے وطن میں وہی گلاب کا پھول

— عرش ملسیانی