نظم 18 اشعار

جشن جمہوریت

Jashn-e Jamhooriyat

جوانیاں ہیں زور پر شباب کا ظہور ہےبہ فیض‌‌ قلب‌‌ مطمئن نظر نظر غیور ہے

امنگ ہے ترنگ ہے نشاط ہے سرور ہےنشان ظلمت الم قریب ہے نہ دور ہے

ہر ایک قمقمہ یہاں چراغ کوہ طور ہےہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

دھری ہوئی ہیں باغ میں ادھر ادھر صراحیاںچھلک رہے ہیں جام مے بہ فیض ساقئ جواں

چلے ہیں بہر مے کشی شیوخ بھی رواں دواںزبان برگ گل پہ ہے یہ نعرۂ طرب نشاں

قصوروار زہد ہے پیے جو بے قصور ہےہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

جھکی ہوئی نگاہ میں ادائے فتنہ پروریحیا میں شان تمکنت جمال میں فسوں گری

نقاب حسن پوش میں نموئے شان دلبریحجاب شرم کوش میں غلوئے ناز کافری

بتوں کا حسن سادہ آج حسن پر غرور ہےہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

اڑیں چمن میں ٹہنیاں پہن کے سبز ساریاںچلیں ہوا کے دوش پر شمیم کی سواریاں

افق سے تا افق گئیں دھنک کی شوخ دھاریاںہوائے تند کی نہیں کہیں بھی ہرزہکاریاں

وطن کی اس بہار میں جنوں بھی با شعور ہےہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

نسیم صبح باغ میں گلاب کو تھپک گئینگار شاخسار کی نقاب رخ سرک گئی

ہوائے مشک بار سے کلی کلی چٹک گئیضیاےنو‌ بہار سے کرن کرن دمک گئی

ضیاے نو بہار ہے کہ برق کوہ طور ہےہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

صباحتوں کی جان ہے ہر ایک روئے خوش نموملاحتوں کی کان ہے ہر ایک زلف مشکبو

بہشت و خلد کی عبث تجھے ہے عرش جستجوملک سرشت ہے یہاں ہر ایک مرد خوب رو

ہر اک زن نظر پسند اپسرا ہے حور ہےہر اک فضا پہ رنگ ہے ہر ایک سمت نور ہے

— عرش ملسیانی