نظم 14 اشعار

ساز خاموشی

Saaz-e Khamoshi

فلک پر انجم تاباں تھے مصروف درخشانیبرستا تھا زمیں پر آسماں سے نور کا پانی

شعاعیں اپنا سیمیں جال دنیا پر بچھاتی تھیںدر و دیوار پر پڑ کر طلسم شب مٹاتی تھیں

کچھ ایسے اوڑھ رکھی تھی فضا نے نور کی چادرگماں ہوتا تھا جس پر یہ کہ ہے بلور کی چادر

لیے ہاتھوں میں نیزے چاند کی کرنیں جھپٹتی تھیںسیہ پوشان تاریکی کی ہر صف کو الٹتی تھیں

سیاہی کا کہیں اشجار کے سائے میں ڈیرا تھاکہیں تاریک غاروں میں ملا اس کو بسیرا تھا

جو منظر تھا وہ سیمیں تھا جو نظارہ تھا سیمابیمنانے کو تھی فطرت آج گویا جشن مہتابی

بڑھے آتے تھے لشکر نور کے کرنوں کو فوجیں تھیںسمندر زور پر تھا اور طوفاں خیز موجیں تھیں

زمیں پر آسماں پر کوہ پر وادی پہ دریا پرچمن پر شہر پر بستی پہ ویرانے پہ صحرا پر

مساجد اور منادر ہوٹلوں اور قہوہ خانوں پرغریبوں کے گھروں پر اور امیروں کے مکانوں پر

سمندر کے کناروں اور پہاڑوں کی چٹانوں پرجہازوں کے نشانوں کشتیوں کے بادبانوں پر

غرض ہر جسم پر ہر جسم پر تھا نور کا عالمجہاں کے ذرے ذرے پر تھا برق نور کا عالم

نظر کے سامنے تھا اس طرح نظارۂ فطرتکہ فطرت جھولتی ہے آج خود گہوارۂ فطرت

فلک نقاشیوں کے رنگ جب فطرت میں بھرتا تھامیں ان نقاشیوں میں جستجوئے شعر کرتا تھا

مناظر دیکھ کر میں ہو رہا تھا محو مدہوشیمرے کانوں میں آتی تھی صدائے ساز خاموشی

— عرش ملسیانی