نظم 11 اشعار

ہولی اور ہندوستان

Holi aur Hindustan

اک طرف راحت کا اور فرحت کا کالاک طرف ہولی میں اڑتا ہے گلال

اک طرف یاروں کی عشرت کوشیاںاک طرف ہم اور حال پر ملال

اک طرف دور شراب آتشیںاک طرف تلچھٹ کا ملنا بھی محال

دیکھتے ہیں تجھ کو جب اٹھتی ہے ہوکآہ اے ہندوستاں اے خستہ حال

رحم کے قابل یہ بربادی تریدید کے قابل یہ تیرا ہے زوال

کس قدر خوں ریز ہے کتنا قبیحتیری مسجد اور مندر کا سوال

اف ترے بیٹوں کی رزم آرائیاںآہ ان کے باہمی جنگ و جدال

اپنے فرزندوں کے یہ اطوار دیکھدیکھ یہ لعنت کے قابل چال ڈھال

کس قدر ذلت کے دل دادہ ہیں یہبے کمالی میں ہیں کتنے با کمال

سینۂ تہذیب پر ہے پنجہ زندین کے جھگڑوں میں ان کا اشتعال

دامن اخلاق پر دھبا ہے ایکان کی وحشت خیزیوں کا اتصال

— عرش ملسیانی