7 اشعار

کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور ترا

Kis qadar dard ke shab karta tha mazkoor tera

کس قدر درد کے شب کرتا تھا مذکور تراوہ ہی بیمار ترا خستۂ و رنجور ترا

بے خبر اب بھی شتابی سے پہنچ ڈرتا ہوںکشتۂ ہجر نہ ہو یہ کہیں مہجور ترا

یہ نہ آنے کے بہانے ہیں سبھی ورنہ میاںاتنا تو گھر سے مرے کچھ نہیں گھر دور ترا

نیچی نظروں سے تری ڈرتا ہوں کیا کچھ نہ کریںدیکھ لینا تو یہاں سب کو ہے منظور ترا

آنکھیں ان روزوں میں سچ کہیو لڑائیں کس سےبے طرح جھمکے ہے کچھ دیدۂ مخمور ترا

جس کی تو یاری کرے یارئ دو جگ وہ کرےناصر ہر دو جہاں ہووے ہے منصور ترا

شش جہت تجھ ستی معمور ہے اللہ اللہجھمکے ہے چاروں طرف نام خدا نور ترا

— آصف الدولہ