7 اشعار

طالب ہو وہاں آن کے کیا کوئی صنم کا

Taalib ho wahaan aan ke kya koi sanam ka

طالب ہو وہاں آن کے کیا کوئی صنم کاہو جس کو بھروسہ نہ جہاں ایک بھی دم کا

کیا میں تجھے احوال دل و جاں کا بتاؤںاب میں تو ارادہ کیے بیٹھا ہوں عدم کا

کی لاکھوں ہیں تدبیر میاں ہم نے وہ لیکنچھوٹا نہ یہ دل باندھا ہوا زلف کے خم کا

یا وصل ہو یا موت کوئی طرح تو ہووےکب تک رہوں پامال میں اس درد و الم کا

جلنے نہ دیا آتش غم سے جگر و دلکیا کیا کہوں احسان میں اس دیدۂ نم کا

آیا جو نشہ مے کا تو شب آنکھ میں اس کیسو رنگ سے بد مستی کا رنگ آن کے چمکا

وصل اس کا میسر نہیں سچ کہتا ہے آصفؔکیوں اپنے تئیں رکھتا ہے مصروف تو غم کا

— آصف الدولہ