5 اشعار

صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کو

Saba kahiyo zabani meri tuk us sarv qamat ko

صبا کہیو زبانی میری ٹک اس سرو قامت کوکہ جب سے دل لیا آئے نہ پھر صاحب سلامت کو

مرے رونے کو سن کر یوں لگا جھنجھلا کے وہ کہنےمیاں یہ جان کھانا ہے اٹھا دو اس ملامت کو

جو ملنا ہے تو آ جاؤ گلے سے لگ کے سو رہئےنہیں تو کام کیا آؤ گے اے صاحب قیامت کو

اٹھائے سو طرح کے ظلم اور جور و جفا تیرےکہا شاباش بھی تو نے نہ میری استقامت کو

ہوا میں خاک اے آصفؔ نہ پہنچا اس کے داماں تکلیے جاؤں گا ساتھ اپنے عدم تک اس ندامت کو

— آصف الدولہ