4 اشعار

نامہ ترا میں لے کر منہ دیکھ رہ گیا تھا

Naama tera main le kar munh dekh reh gaya tha

نامہ ترا میں لے کر منہ دیکھ رہ گیا تھاکیا جانیے کہ قاصد کیا مجھ کو کہہ گیا تھا

کوچے سے اپنے تو نے مجھ کو عبث اٹھایاسب تو چلے گئے تھے اک میں ہی رہ گیا تھا

پہلے جو آنسو دیکھا لوہو سا لال تم نےناصح وہ دل ہمارا خوں ہو کے بہہ گیا تھا

کچھ بھی نہ سوجھتا تھا اس بن مجھے تو آصفؔجس دن ستی یہاں سے وہ رشک مہ گیا تھا

— آصف الدولہ