15 اشعار

ابھی حویلی بٹی نہیں تھی

ابھی حویلی بٹی نہیں تھی

ابھی حویلی بٹی نہیں تھی

«ابھی حویلی بٹی نہیں تھی» عاطف جاوید عاطف کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

ابھی حویلی بٹی نہیں تھیمکین خوش تھے

بساطِ دل کے کسی بھی مہرے پہعقل غالب نہیں ہوئی تھی

رسوئی خانے میں بہن بھائیوں کی سانجھ ہنڈیا میں پک رہی تھییہیں کہیں پر

صحن میں رکھے پلنگ پہ لیٹانحیف بوڑھا

ادھورے سپنوں کو پھر سے تجسیم کر رہا تھاکہ بجھتی آنکھوں میں ماند پڑتی کرن کرن سے

اک ایک ذرّا ادھار لیکرجوان پیڑھی میں خواب تقسیم کر رہا تھا

حسد ، اندیشے ، طمع و لالچصحن کی چوکھٹ سے دور

رستے کی دُھول بن کر پڑے ہوئے تھےکہ خاک اب تک اُڑی نہیں تھی

فشارِ خوں کی دوائیں ، سگرٹ ، نظر کا چشمہابھی کسی پر گِراں نہیں تھا

ابھی یہ گھر تھا مکاں نہیں تھاابھی وراثت میں قہقہے ، درد ، خواب ، ہاتھوں کے لمس

آپس میں بٹ رہے تھےکہ زندگانی کے دن کٹھن تھے

مگر سہولت سے کٹ رہے تھےمحبتوں کا

چراغ جلتا تھا طاقچے میںمگر یہ سب ٹھیک

تب تلک تھانحیف سانسوں کی ڈور جب تک

کٹی نہیں تھیابھی حویلی بٹی نہیں تھی !

— عاطف جاوید عاطف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں