12 اشعار

گُرو

Guru

گُرو

«گُرو» عاطف جاوید عاطف کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «‏⁧‫میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)» میں 24 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

گُروہمارے ڈیرے پہ آؤ صاحب

تمہیں دکھائیںادھورے لوگوں کی پوری دنیا

کھنکتے گھنگرو کی لَے پہ رقصاں ٹرانس جینڈرجو اپنے سینے سے جنسی ردو بدل کے دُکھ کو لگائے اپنی سیاہ بختی سے لڑ رہے ہیں

یہ پارساؤں کی پارسائی کا راز رکھتے ہوئے مخنثعمیق راتوں میں پلتے لمحوں کو اپنا ملبوس کر رہے ہیں

کہ روحِ کامل کے نامکمل بدن کے دکھ کوقدیم وقتوں سے سہہ رہے ہیں

یہ سب صحیفوں میں ذکر اپنا تلاش کر کر کے تھک گئے ہیںکسی صحیفے میں حوا آدم کی ہے کہانی

کہیں کتابوں میں ماں کی عظمت کی ہے نشانیکہیں پڑھا تھا

"زمیں پہ اُس کا وجود ہوتا تو ایک ممتا کا روپ ہوتا "ہمارے ڈیرے کو دیکھو صاحب

یہ ریٹا , جُولی , یہ ڈولی , گُڑیاکہ جن کے ماتھے پہ ماں کی ممتا کا ایک بوسہ تلک نہیں ہے

میں ان کو کیسے یقیں دلاؤں کہ ان کی ممتا خدا نہیں تھیمیں ان کو کیسے بتاؤں صاحب

کہ جن صحیفوں میں باپ جنت کا در لکھا ہے ..وہ حق ہے صاحب ...مگر حقیقت ہے کڑوا سچ ہے کہ ان کی جنت کے در پہ بچپن سے ایک تالا لگا ہوا ,,,

کہ ان کی قسمت کی کوئی کھڑکی کُھلی نہیں ہےہر اک پہ جالا لگا ہوا ہے !!!

— عاطف جاوید عاطف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں