5 اشعار

اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے

Ae Barg-e-dil chashm-e-nam se dhul kar shajar nikharte to sabz hote

اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے

«اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتے» عاطف جاوید عاطف کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

اے برگِ دل چشمِ نم سے دُھل کر شجر نکھرتے تو سبز ہوتےنمیدہ پلکوں سے تیری یادوں کے پَل سنورتے تو سبز ہوتے

خزاں تو موقع پرست ٹھہری سو خُشک پتے بچھا رہی ہےبہار جیسے وہ یار رستوں پہ پاؤں دھرتے تو سبز ہوتے

قدیم رستوں کے زرد پتے بھی خوش کلامی کے منتظر ہیںکہ آتے جاتے تم ان درختوں سے بات کرتے تو سبز ہوتے

جو سبز ہوتے ہمارے ساۓ سے چھاؤں ملتی مسافروں کوبُریدہ شاخوں کو چھُو کے ہاتھوں سے تم گزرتے تو سبز ہوتے

تری محبت کے پریم جل تک رسائی ممکن نہیں تھی ورنہہمارے جیسے نمود پاکر شجر سےجھڑتے تو سبز ہوتے

— عاطف جاوید عاطف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں