9 اشعار

دل ناکام کے ہیں کام خراب

Dil-e-nakam ke hain kaam kharab

دل ناکام کے ہیں کام خراب

«دل ناکام کے ہیں کام خراب» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

دل ناکام کے ہیں کام خرابکر لیا عاشقی میں نام خراب

اس خرابات کا یہی ہے مزہکہ رہے آدمی مدام خراب

دیکھ کر جنس دل وہ کہتے ہیںکیوں کرے کوئی اپنے دام خراب

ابر تر سے صبا ہی اچھی تھیمیری مٹی ہوئی تمام خراب

وہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتاوہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب

کیا ملا ہم کو زندگی کے سواوہ بھی دشوار ناتمام خراب

واہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیںخوب رو ہو کے یہ کلام خراب

چال کی رہنمائے عشق نے بھیوہ دکھایا جو تھا مقام خراب

داغؔ ہے بد چلن تو ہونے دوسو میں ہوتا ہے اک غلام خراب

— داغ دہلوی