نظم 7 اشعار

چند لمحے

Chand Lamhe

چند لمحے جنہیں اک لغزش پا نے میریکہیں ماضی کے اندھیروں میں کچل ڈالا تھا

چوٹ کھائی ہوئی ناگن کی طرح لہرا کرمیرے احساس کے ہر گوشے پہ چھا جاتے ہیں

میری آنکھوں سے مے خواب اڑا جاتے ہیںرات بھر کے لیے دیوانہ بنا جاتے ہیں

خون ہو جاتا ہے جب سوزش پنہاں سے بھڑکتا ہوا دلتیرنے لگتا ہے رگ رگ میں لہو ہو کے دھڑکتا ہوا دل

کپکپاتے ہوئے ہونٹتھرتھراتی ہوئی نبض

ٹمٹماتے ہوئے آنکھوں کے دیےگود میں سیل فراواں کو لیے

ایسی حالت میں کوئی کیسے جئے کیسے جئے؟

— خورشیدرضوی