نظم 9 اشعار

جست

Jast

مرا حال یہ تھازمستاں میں جب برف زاروں میں چلتے ہوئے

گرسنہ بھیڑیوں کی قطاریں گزرتیںتو میں کپکپاتا

یہ جی چاہتا عرصۂ زیست کو چھوڑ کرکوہساروں کے اس پار ڈیرا لگا لوں

ادھر میرے جاتے ہی برفیں پگھل جائیںگرگان بے مہر میرے نقوش قدم سونگھ کر مجھ تک آنے نہ پائیں

مگر اب تو جیسےمری روح میں کوئی چیتا سا انگڑائیاں لے رہا ہے

یہ جی چاہتا ہےکہ گرگ آشتی کی سبھا جب لگے

میں بھی تصویر جیسی کھلی آنکھ لے کرجو ہرگز جھپکتی نہ ہو

غار کے وسط میں آن بیٹھوںاور ان میں سے جس جس کی آنکھیں جھپکتی چلی جائیں

وہ لحظہ لحظہ مرا رزق ہومیں اسے پارہ پارہ کروں

— خورشیدرضوی