نظم 6 اشعار

نا بینائی میں ایک خواب

Na Beenaai Mein Aik Khwaab

میں ہوں سر چشمۂ اول سے بہت دورپئے نور بھٹکنے والا

روشنی عکس بہ عکس آتی ہے ان آنکھوں تکآئنے اپنی خیانت سے نہیں خود واقف

ان کو معلوم نہیںزاویے ان کے بدل دیتے ہیں کرنوں کا مزاج

آج اس نور محرف سے ہے آنکھوں میں تھکندل میں خناس کی سرگوشیٔ پیہم کی چبھن

کاش سر چشمۂ اول سے اتر آئے کوئی راست کرنجو مری روح کی ظلمت میں اجالا کر دے

میں کہ ہوں کور مجھے دیکھنے والا کر دے

— خورشیدرضوی