نظم 10 اشعار

محاسبہ

Muhaasaba

ہوا کہیں نام کو نہیں تھیاذان مغرب سے دن کی پسپا سپاہ کا دل دھڑک رہا تھا

تمام رنگوں کے امتیازات مٹ چکے تھےہر ایک شے کی سیہ قبا تھی

جگہ جگہ بام و در کے پیکرافق کے رنگین چوکھٹے میں

مثال تصویر جم گئے تھےشجر حجر سب کے سب گریباں میں سر جھکائے

محاسبہ کر رہے تھے دن بھر کے نیک و بد کاطویل قامت حزیں کھجوریں

کٹی ہوئی ساعتوں کے ماتم میںبال کھولے ہوئے کھڑی تھیں

نشیمنوں کو پلٹتے طائرکچھ ایسے تھم تھم کے اڑ رہے تھے

کہ صفحۂ آسماں پہ گویاسراب پرواز بن گئے تھے

ادھر مرا دلدھڑک دھڑک کر

عجیب عبرت بھری ندامت سے سوچتا تھاکہ آج کا دن بھی کٹ گیا ہے

— خورشیدرضوی