نظم 6 اشعار

دھند اچھی ہے

Dhund Achhi Hai

دھند اچھی ہےمرے ذہن کی ہم زاد ہے دھند

دھند اچھی ہےہر اک جبر سے آزاد ہے دھند

دھند میں ڈوبے ہوئے خار و گل او سنگ و زجاج اچھے ہیںایک ابہام میں تحلیل ہوئے جاتے ہیں منظر سارے

پردۂ ذہن پہ کجلائے ہوئے شہر کی تصویر ہے دھندخواب میں دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر ہے دھند

ہاں مگر دھند کے اس پار چمکتا سورجتند خو شعلہ نفس ہونکتے مرکب پہ سوار

اپنی ہیرے کی کنی ایسی انی لے کے بڑھا آتا ہے

— خورشیدرضوی