نظم 15 اشعار

ہم زاد

Hum-Zaad

میں آج دفتر میں صبح پہنچاتو اک نیا زرد زرد چہرہ نظر پڑا

جس کو دیکھتے ہیمعاً مرے دل میں اک دریچہ کھلا

اور اس کے عقب سےاس زرد شکل کی ہم شبیہ

اک سرخ شکل ابھریشریر گستاخ بے تکلف

ابھر کے میرے قریب آئیقریب آ کر

نظر ملا کروہ کھلکھلا کر ہنسی

اور اپنے شریر پوروں سےمیرے کالر کی سختیاں پائمال کر دیں

سفید بالوں کے پیچ و خم میںسیاہیوں کی لکیر کھینچی

نگاہ سے سب خشونتیںاور جبیں سے سب سلوٹیں مٹا دیں

مجھے دریچے سے لے کے نکلیطویل راہوں پہ

سبزہ زاروں میںلہلہاتے حسین کھیتوں میں

چاند تاروں میں پھر رہی تھیکہ جب اچانک

دریچۂ دل کے بند ہونے سے وقت کے پل صراط کی تیز ڈور ٹوٹیوہی سفیدی کے پیچ و خم تھے

وہی سفیدی کے پیچ و خم کے تلے جبیں پر شکننگہ میں خشونتیں

روبرو وہی زرد زرد چہرہجو کانپتی انگلیوں سے فائل کو میز پر رکھ کے ہٹ رہا تھا

— خورشیدرضوی