نظم 6 اشعار

سبز سے سفید میں آنے کا غم

Sabz Se Sufaid Mein Aane Ka Gham

نظر اٹھاؤںتو سنگ مرمر کی کور بے حس

سفید آنکھیںنظر جھکاؤں تو شیر قالین گھورتا ہے

مرے لیے اس محل میں آسودگی نہیں ہےکوئی مجھے ان سفید پتھر کے گنبدوں سے رہا کرائے

میں اک صدا ہوںمگر یہاں گنگ ہو گیا ہوں

مرے لیے توانہیں درختوں کے سبز گنبد میں شانتی تھی

جہاں مری بات گونجتی تھی

— خورشیدرضوی