7 اشعار

صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیں

Saleeb-e-Marg Pe Aao Badan Utaarte Hain

صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیں

«صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیں» کومل جوئیہ کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیںتمام عمر کی لادی تھکن اتارتے ہیں

وہ میری ذات سے یوں منحرف ہوا جیسےکسی قمیض سے ، ٹوٹے بٹن اتارتے ہیں

غزال شخص ! تم اِتراو ، حق بھی بنتا ہےتمہاری آنکھ کا صدقہ ہرن اتارتے ہیں

ہر ایک سانس کٹ جاتی ہے سود بھرتے ہوئےیہ قرضِ زندگی سب مرد و زن اتارتے ہیں

عطا ہر ایک پہ ہوتی نہیں کہ مالکِ کُنچنیدہ لوگوں پہ رزق سخن اتارتے ہیں

جو عشق گھول کے دیتے ہیں میٹھے لہجوں میںرگوں میں زہر بھی وہ دفعتاً اتارتے ہیں

گلے لگاؤ کہ تھک جانے والے لوگوں کودلاسہ دیتے ہیں ، دل کی گھٹن اتارتے ہیں

— کومل جوئیہ