5 اشعار

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے

«وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کے» کومل جوئیہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

وہ جو مطیعِ دل نہ تھے قائل دماغ کےُسن ہی نہیں رہے ہیں دلائل دماغ کے

یہ عشق کا خلل بھی اگر آگیا تو کیاویسے بھی سینکڑوں ہیں مسائل دماغ کے

کیا ہے اگر وہ آکے کہے " تم سے پیار ہے"اور کر دے سارے وسوسے زائل ، دماغ کے

ہم خود ہی چاہتے تھے ہرا ہی رہے فتورسو زخم لاعلاج ہیں گھائل دماغ کے

شہرِ جنوں کو جاتے ہوئے رک گئے تھے ہمکچھ مشورے تھے راہ میں حائل دماغ کے

— کومل جوئیہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں