تعارف
سید وصی شاہ 21 جنوری 1973ء کو سرگودھا، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد بیچلر آف کامرس کی ڈگری حاصل کی۔ نوجوانی میں انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کے بجائے اپنی زندگی کو مکمل طور پر ادب اور شاعری کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ان کے ادبی عزم اور تخلیقی جذبے کی واضح مثال ہے۔وصی شاہ اردو کے معاصر شاعروں میں ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت، عشق، جدائی اور انسانی جذبات کی عکاسی نمایاں ہے۔ انہوں نے متعدد شعری مجموعے تخلیق کیے، جن میں “مجھے صندل کردو”، “میرے ہو کے رہو”، اور “آنکھیں بھیگ جاتی ہیں” قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کالم نگار، ڈراما نویس اور ٹی وی اینکر کے طور پر بھی متحرک رہے ہیں، اور اپنے ادبی و تخلیقی کام کے ذریعے اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اگرچہ وصی شاہ کی پیدائش سرگودھا میں ہوئی، مگر طویل عرصے تک ان کی رہائش لاہور میں رہی ہے۔ وہ آج بھی فعال ہیں اور شاعری، کالم نگاری اور ادبی تقریبات میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا سفر ایک نوجوان طالب علم سے لے کر ایک کامیاب ادیب، شاعر اور تخلیقی شخصیت تک کا روشن باب ہے، جس نے اردو ادب کے جدید منظرنامے میں اپنی نمایاں شناخت قائم کی ہے۔
منتخب اشعار
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
پھوٹ کر رونے لگے ہیں ، میں محبت اور تم
ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
ہر کوئی ہائے جنوں ہائے جنوں کرتا تھا
کلام
- 01 آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر Aaj yoon mausam ne di jashn-e-mohabbat ki khabar آواز میں دستیاب
- 02 ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا Hosh walon pe woh kuch aisa fasoon karta tha آواز میں دستیاب
- 03 ہم نے نیکی کا کوئی کام کیا ہو گا وصی Hum ne neki ka koi kaam kiya hoga Wasi آواز میں دستیاب
- 04 کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا Kaash main tere haseen haath ka kangan hota آواز میں دستیاب
- 05 یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے Yeh kamyabiyan izzat yeh naam tum se hai آواز میں دستیاب
- 06 خدا ہی جانے کہ ان کی سزائیں کیا ہوں گی Khuda hi jaane ke in ki sazayein kya hongi آواز میں دستیاب