8 اشعار

اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں

Udaasi, ranj, aziyat, khasaare aa jaaein

اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں

«اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیں» کومل جوئیہ کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے محمد رفیع سودا» میں 1 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

اداسی ، رنج ، اذیت ، خسارے آجائیںہے جن سے گہرا تعلق وہ سارے آجائیں

تم اپنے اشک گراؤ مری ہتھیلی پرمبادا پاؤں کے نیچے یہ تارے آجائیں

جو نیم جان تھے ، بے جان ہوگئے سو اُنہیںذرا سا موج اچھالے ، کنارے آ جائیں

کسی طرح تو یہ سکراتِ ہجر ٹوٹے بھیاٹھا کے رحل ، وظیفے ، سپارے آ جائیں

لگے بندھے ہوئے مصرعے بدل سکوں اے کاشخدایا ذہن میں کچھ استعارے آ جائیں

میں عشق کر کے بھی زندہ ہوں ، دیکھنے کے لیےیہ ششدران ، یہ حیرت کے مارے ، آ جائیں

پناہ چاہئیے ؟ دی جان کی امان ، سو آپبلا جھجھک یہاں ، دل میں ہمارے آ جائیں

میں ایک پیڑ ہوں کہنے کی دیر ہے کوملسبھی کے ہاتھوں میں کلہاڑے ، آرے آجائیں

— کومل جوئیہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں