7 اشعار

چند الفاظ قدرت کی صناعی پہ لکھے تھے

Chand alfaaz qudrat ki sana'i pe likhe the

چند الفاظ قدرت کی صناعی پہ لکھے تھے

«چند الفاظ قدرت کی صناعی پہ لکھے تھے» ماہ نور کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

چند الفاظ قدرت کی صناعی پہ لکھے تھےگردشِ مدار میں پستی ہوئی وہ رات کالی

ابھرتی دھرتی سے پھوٹتی وہ شفق کی لالیآغاز صبح،شجر سی چھنتی وہ روشنی کی جالی

ثناء خواں پرندے چہکتے پھرتے ،ڈالی ڈالیکہہیں پہ سبزا،کہیں پہ خشکی کہیں پہ بہتا پانی

کہیں پہ جنگل کہیں ہے پربت کہیں پہ وادیکہیں کھڑا برف کا تودا کہیں چمکتی برف کی دھاری

کہیں دفن معدنی خزانے،کہیں پہ مچھلیوں کی روانیالگ ہی اک نظم پہ چلتی، وسیع عریض یہ راجدھانی

ہر اک زرہ ہر اک بوٹا کرے ہے اقرارَوحدانیہر اک کوچہ ہر اک جاہ پہ عیاں ہوئی تیری نشانی ۔

ہے تو ہی خالق تو ہی مالک ہے تو ہی رازقہے تو ہی یکتا تو ہے واحد نہیں ہے کوئی تیرا ثانی ۔

— ماہ نور