22 اشعار

مکالماتی نظم

Mukalamati Nazm

مکالماتی نظم

«مکالماتی نظم» ماہ نور کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 28 سیکنڈ ہے۔

‏اس نے کہا تم میری پریت ہو ؟‏میں نے کہا ہم م م اور تم میرا من میت ہو ۔

‏اس نے کہا ہونٹوں پہ میرے گیت ؟‏میں نے کہا ہر دم چاہے ہار رہی یا جیت ۔

‏اس نے کہا کبھی یاد آئی‏میں نے کہا اک پل نہ بھلا پائی

‏اس نے کہا یاد کیا تو کیا‏میں نے کہا چند لفظ لکھے ، شعر کہا

‏اس نے کہا کبھی پکارا مجھے اکیلے میں‏میں نے کہا ہاں ہر رات کے اندھیرے میں

‏اس نے کہا اور دن کیسے کاٹے بھلا‏میں نے کہا ہر دن کی کتھا ہے جدا جدا

‏اس نے کہا اب رنگ کون سا بھاتا ہے‏میں نے کہا وہی جومجھے دیکھ کے تمہاری آنکھوں میں آتا ہے

‏اس نے کہا بھلا کون سا کہو تو‏میں نے کہا پیار، کا انکار کا ،کبھی غصہ اور کبھی اقرار کا

‏اس نے کہا یہ سنکر میرے دل میں ہوئی ہے دھڑک‏میں نے کہا پگلے یہ تو تھی میری چوڑیوں کی کھنک

اس نے کہا آج آسماں پہ یہ رنگ کیسےمیں نے کہا لگتے ہیں نا میرے پلو کی دھنک جیسے

‏اس نے کہا دیکھو کیسے کِھلی پڑی ہے تمہاری رنگت‏میں نے کہا ہاں نا جب سے ملی ہے تمہاری سنگت

‏اس نے کہا مجھے نہ ملا پھر کوئی تم سا‏میں نے ہنس کر کہا بھلا کیوں چاہیے تھا کوئی ہم سا ؟؟؟

‏اس نے کہا میں تمہارے بن ادھورا رہامیں نے کہا اور اب تم نے مجھے پورا کیا

‏اس نے کہا تمہارا خیال دل سے نکلتا نہیں ہے‏میں نے کہا کیوں دھڑکن ہوں جو میرے یہ بغیر چلتا نہیں ہے

‏اس نے کہا دیکھو نہ یوں بھاؤ دکھاؤ‏میں نے کہا تمہاری چاہ ہوں تو کیوں نہ اِتراؤں

‏اس نے کہا اب کے گیا تو لوٹ کے نہ آؤں گامیں نے کہا ایسااااا اچھا چلو تمھیں جانے دیا

‏اس نے کہا سنتے ہیں ہجر کٹتا نہیں‏میں نے کہا وصل بھی تو ملتا نہیں

‏اس نے کہا ہجر اتنا ہی کیا آسان ہے‏میں نے کہا نہ نہ تم میں تو میری جان ہے

‏اس نے کہا تو پھر یہ کیسا ہے غرور ؟؟؟‏میں نے کہا اگر جا پائیں تو پھر جائیے حضور ۔۔۔

‏اس نے کہا اتنا یقین ؟؟؟‏میں نے کہا ہاں ! کیونکہ ایسا کبھی ممکن نہیں

‏اس نے کہا پچھتاؤ گی‏میں نے کہا تو کیا تم کو نہ یاد آؤں گی

اس نے کہا ۔۔لو اب میں چلا کہو کیا اب جی پاؤ گی‏میں نے کہا نہیں بالکل نہیں لیکن تِل تِل مر کے جی کےدکھلاؤں گی ۔۔۔

— ماہ نور