16 اشعار

میں تو اُن لمحات کے گرداب

Main to un lamhat ke girdab

میں تو اُن لمحات کے گرداب

«میں تو اُن لمحات کے گرداب» ماہ نور کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

میں تو اُن لمحات کے گردابسے ابھر ہی نہیں پاتی

کہ جن میں ہولے سے بہتتم نے میرا نام پکارا تھا

اک خمار سا میرے دل میں اتر آیا تھااپنی آنکھوں میں کئی

خواب تمُ نے بھی سجا رکھے تھےان سجے خوابوں میں

اک ساتھ کی خواہش تھی کہیںاس خواہش میں ہاں میرابھی بسیرا تھا

میری بے رنگ کہانی میںجیسے دھنک سی اتر آئی تھی

میں بہت شوخ بنیخوب ہی اترائی تھی

میری آنکھوں میں ہلکی سیچمک اتر آئی تھی

یہ جو احساس میرے دل میں سمایا تھاوہی احساس تو تم تک مجھے لایا تھا

وہ محبت کا حسیں راگدل میں پنہاں اک راز

وہ تمہاری چاہت کا ہی تو سایہ تھاوہ چمک آنکھوں کی

وہ شوخی سمے کیوہ سارے رنگ دھنک کے

بکھر سے گئےتیرے میرے راستے

بدل سے گئےیہ چاہتوں کا دوش نہ تھا

یہ تیرا میرا قصور نہ تھایہ فیصلہ تو نصیب میں تھا

کہ اپنا ملنا لکھا نہ تھاکہ اپنا ملنا لکھا نہ تھا !!!!

— ماہ نور