5 اشعار

سمٹ بھی جاؤں تو آکر بکھیر دیتا تھا

Sumat bhi jaaun to aakar bikher deta tha

سمٹ بھی جاؤں تو آکر بکھیر دیتا تھا

«سمٹ بھی جاؤں تو آکر بکھیر دیتا تھا» ماہ نور کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

سمٹ بھی جاؤں تو آکر بکھیر دیتا تھاوہ شخص جیسے ہوا کا کوئی جھونکا تھا

میرے دھیان کے سب راستے وہیں اترےسراب جیسا حسین ، ہاں ،مگر وہ دھوکہ تھا

دل اختیار سے میرے رہا سدا باہریہ ہر اک بار اُسی کی صدا پہ چونکا تھا

میرے قلم سے جو نکلا ہر اک لفظ ِترابہت سی بار تو نوکِ قلم کو ٹوکا تھا

حسین خواب تھے آنکھوں میں آبسے چپ چاپجاگتی آنکھ کے خوابوں کو بہت روکا تھا

— ماہ نور