18 اشعار

چرا لیا ہے تم نے جو دل کو

Chura liya hai tum ne jo dil ko

چرا لیا ہے تم نے جو دل کو

«چرا لیا ہے تم نے جو دل کو» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے کرشنا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

چرا لیا ہے تم نے جو دل کونظر نہیں چرانا صنم

بدل کے میری تم زندگانیکہیں بدل نہ جانا صنم

او، لے لیا دل، او میرا دلہائے دل لے کر مجھ کو نہ بہلانا

چرا لیا ہے تم نے جو دل کونظر نہیں چرانا صنم

بدل کے میری تم زندگانیکہیں بدل نہ جانا صنم

بہار بن کے آؤں کبھی تمہاری دنیا میںگزر نہ جائے یہ دن کہیں اسی تمنا میں

تم میرے ہو، تم میرے ہوآج تم اتنا وعدہ کرتے جانا

چرا لیاچرا لیا

چرا لیا ہے تم نے جو دل کونظر نہیں چرانا صنم

بدل کے میری تم زندگانیکہیں بدل نہ جانا صنم

ہو، سجاؤں گا بھی لٹ کر تیرے بدن کی ڈالی کولہو جگر کا دوں گا حسیں لبوں کی لالی کو

ہو، سجاؤں گا بھی لٹ کر تیرے بدن کی ڈالی کولہو جگر کا دوں گا حسیں لبوں کی لالی کو

ہائے وفا کا اس جہاں کواک دن دکھلا دوں گا میں دیوانہ

چرا لیاچرا لیا ہے تم نے جو دل کو

نظر نہیں چرانا صنمبدل کے میری تم زندگانی

کہیں بدل نہ جانا صنملے لیا دل، او میرا دل

ہائے دل لے کر مجھ کو نہ بہلاناچرا لیا ہے تم نے جو دل کو

نظر نہیں چرانا صنم

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں