6 اشعار

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

Jalte hain jis ke liye teri aankhon ke diye

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

«جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیےڈھونڈ لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئے

درد بن کے جو میرے دل میں رہا ، ڈھل نہ سکاجادو بن کے تیری آنکھوں میں رکا ، چل نہ سکا

آج لایا ہوں وہی گیت میں تیرے لئےدل میں رکھ لینا اسے ہاتھوں سے یہ چھوٹے نہ کہیں

گیت نازک ہے میرا شیشے سے بھی ٹوٹے نہ کہیںگنگناؤں گا یہی گیت میں تیرے لئے

جب تلک نہ یہ تیرے رس کے بھرے ہونٹوں سے ملےیونہی آوارہ پھرے گا یہ تیری زلفوں کے تلے

گائے جاؤںگا یہی گیت میں تیرے لئےجلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں