6 اشعار

چھلکائیے جام

Chhalkaiye jaam

چھلکائیے جام

«چھلکائیے جام» مجروح سلطانپوری کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر مجروح سلطانپوری» میں 31 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

چھلکائیے جامآئیے آپ کی آنکھوں کے نام، ہونٹوں کے نام

پھول جیسے تن پہ جلوے یہ رنگ و بو کےآج جامِ مئے اٹھے ان ہونٹوں کو چھو کے

لچکائیے شاخِ بدن، مہکائیے زلفوں کی شامآپ ہی کا نام لے کر پی ہے سبھی نے

آپ پر دھڑک رہے ہیں پیالوں کے سینےیہاں اجنبی کوئی نہیں، یہ ہے آپ کی محفل تمام

کون ہر کسی کی بانہیں بانہوں میں ڈال لےجو نظر نشہ پلائے، وہ ہی سنبھال لے

دنیا کو ہو اوروں کی دھن، ہم کو تو ہے ساقی سے کام

— مجروح سلطانپوری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں