8 اشعار

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں

«جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

دل آشفتگاں خال کنج دہن کےسویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں

ترے سرو قامت سے اک قد آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

تماشا کہ اے محو آئینہ داریتجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

سراغ تف نالہ لے داغ دل سےکہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔتماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیںکہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں

خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیںمژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

— مرزا غالب