13 اشعار

ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے

Zulmat-kade mein mere shab-e-gham ka josh hai

ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے

«ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیل سحر سو خموش ہے

نے مژدۂ وصال نہ نظارہ جمالمدت ہوئی کہ آشتی چشم و گوش ہے

مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاباے شوق ہاں اجازت تسلیم ہوش ہے

گوہر کو عقد گردن خوباں میں دیکھناکیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے

دیدار بادہ حوصلہ ساقی نگاہ مستبزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے

اے تازہ واردان بساط ہوائے دلزنہار اگر تمہیں ہوس نائے و نوش ہے

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے

ساقی بہ جلوہ دشمن ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوش ہے

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامان باغبان و کف گل فروش ہے

لطف خرام ساقی و ذوق صدائے چنگیہ جنت نگاہ وہ فردوس گوش ہے

یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے

— مرزا غالب