28 اشعار

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی

«گھستے گھستے پاؤں میں زنجیر آدھی رہ گئی» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے نگاہ بسمل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئیمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئی

سب ہی پڑھتا کاش کیوں تکبیر آدھی رہ گئیکھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی

غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئیبیٹھ رہتا لے کے چشم پر نم اس کے رو برو

کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو بروبات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو

کہہ سکے ساری حقیقت ہم نہ اس کے رو بروہم نشیں آدھی ہوئی تقریر آدھی رہ گئی

تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دارخواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیار

مثل زخم آنکھوں کو سی دیتا جو ہوتا ہوشیارکھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویر یار

جاگ اٹھا میں کھینچنی تصویر آدھی رہ گئیغم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز

مستی چشم سیہ سے چل کے ہو ویں چارہ سازتو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز

دیکھتے ہی اے ستمگر تیری چشم نیم بازکی تھی پوری ہم نے جو تدبیر آدھی رہ گئی

اس بت مغرور کو کیا ہو کسی پر التفاتجس کے حسن روز افزوں کی یہ اک ادنی ہے بات

ماہ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان ساتاس رخ روشن کے آگے ماہ یک ہفتہ کی رات

تابش خرشید پر تنویر آدھی رہ گئیتا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں

ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میںجز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں

کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میںآتے ہی خاصیت اکسیر آدھی رہ گئی

سب سے یہ گوشہ کنارے ہے گلے لگ جا مرےآدمی کو کیوں پکارے ہے گلے لگ جا مرے

سر سے گر چادر اتارے ہے گلے لگ جا مرےمانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے گلے لگ جا مرے

وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئیمیں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھر گئے

پر نصیب اپنا انھیں جاتا سنا جوں پھر گئےدیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھر گئے

آکے آدھی دور میرے گھر سے وہ کیوں پھر گئےکیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی

ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو یارب کب کی باتکچھ نہیں کہتا کسی سے سن رہا ہوں سب کی بات

کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی باتنامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات

خط میں آدھی ہو سکی تحریر آدھی رہ گئیہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب

ہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طربشام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب

پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شبنکلی آدھی حسرت تقریر آدھی رہ گئی

تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سرہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر

جان کی پاؤں اماں باتیں یہ سب سچ ہیں مگردل نے کی ساری خرابی لے گیا مجھ کو ظفر

واں کے جانے میں مری توقیر آدھی رہ گئی

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں