7 اشعار

شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا

Shab-e-khumar-e-shauq-e-saqi rastkhez-andaza tha

شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا

«شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

شب خمار شوق ساقی رستخیز اندازہ تھاتامحیط بادہ صورت خانۂ خمیازہ تھا

یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلاجادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

مانع وحشت خرامی ہائے لیلیٰ کون ہےخانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا

پوچھ مت رسوائی انداز استغنائے حسندست مرہون حنا رخسار رہن غازہ تھا

نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ بادیادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا

ہوں چراغان ہوس جوں کاغذ آتش زدہداغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا

بے نوائی تر صداۓ نغمۂ شہرت اسدؔبوریا یک نیستاں عالم بلند آوازہ تھا

— مرزا غالب