8 اشعار

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے

Jo be-sabaat ho us sar-khushi ko kya keejiye

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے

«جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجے» ن م راشد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جو بے ثبات ہو اس سر خوشی کو کیا کیجےیہ زندگی ہے تو پھر زندگی کو کیا کیجے

رکا جو کام تو دیوانگی ہی کام آئینہ کام آئے تو فرزانگی کو کیا کیجے

یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملامگر سرشت کی آوارگی کو کیا کیجے

کسی کو دیکھ کے اک موج لب پہ آ تو گئیاٹھے نہ دل سے تو ایسی ہنسی کو کیا کیجے

ہمیں تو آپ نے سوز الم ہی بخشا تھاجو نور بن گئی اس تیرگی کو کیا کیجے

ہمارے حصے کا اک جرعہ بھی نہیں باقینگاہ دوست کی مے خانگی کو کیا کیجے

جہاں غریب کو نان جویں نہیں ملتیوہاں حکیم کے درس خودی کو کیا کیجے

وصال دوست سے بھی کم نہ ہو سکی راشدؔازل سے پائی ہوئی تشنگی کو کیا کیجے

— ن م راشد