8 اشعار

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا

Tu aashna-e-jazba-e-ulfat nahin raha

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا

«تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا» ن م راشد کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہادل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا

پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتےتو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا

آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاںدل آشنائے سوز محبت نہیں رہا

گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظرمیں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

شاید جنوں ہے مائل فرزانگی مرامیں وہ نہیں وہ عالم وحشت نہیں رہا

ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگ ناگہاںمیں اب اسیر گردش قسمت نہیں رہا

جلوہ گہہ خیال میں وہ آ گئے ہیں آجلو میں رہین زحمت خلوت نہیں رہا

کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سےسر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا

— ن م راشد