search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ہوم
›
رانا احمد شہید
›
شاعری
رانا احمد شہید کی شاعری، غزلیں اور نظمیں
شاعر
تعارف
شاعری
کلامِ شاعر
مشورے خود کو دیے جاتا ہوں
مری وفا پہ ترا اعتبار ختم ہوا
جب وصل کے دن رہ چار گئے
ہر طرف غم کی حکمرانی ہے
مجھے تنہا ہی رہنا ہے
کسی سے کوئی شکوہ اور نہ کوئی آرزو کرنا
نظاروں سے بہاروں سے مجھے کچھ بھی نہیں لینا
میں تو صحراؤں کا مسافر ہوں
میں ٹوٹ کر پھربکھر گیا ہوں جو ہو سکے تو اسے بتادو
تری خواہش مرے صیاد پوری ہونے والی ہے
ہر ایک پل اضطراب میں ہوں
آرزو بے لباس لگتی ہے
میں اس کی سنگدلی سمجھا نہیں تھا
مجھے مری زندگی ذرا آزما رہی ہے مجھے خبر ہے
جانے والوں کو لوٹ جانا ہے
حق محبت کا کیا ادا کرتا
نگاہ تھک ہی گئی انتظار کرکرکے
اگر یہ وقت تھم جائے
آگ سے جو کچھ بھی پانی نے کیا
حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے
مجھے لگنے لگا ہے زندگی کا یہ سفر دھوکہ
ایک تماشہ صبح و شام تو ہونا تھا
بلند اڑان نئے بال و پر تلاش کرو
سینے سے اسنے دل کو دیا ہے نکال کر
تجزیہ کیا جب بھی باربار لوگوں کا
یوں نصیب اپنا سو گیا احمد
اے ستم گر تو ابھی واقف حالات نہیں
رات کا وقت ہے، سناٹا ہے، اندھیرا ہے
دن میں سورج سا جل رہا تھا میں
دیا اُس نے حکم سفر میں اکیلا
میرے گھر کے آنگن میں خامشی کا ڈیرہ ہے
یہ دستور زمانہ ہے، زمانہ چھوڑ دیتا ہے
کرب کا سمندر ہے
ہیں سوال و جواب پر پہرے
یہ خوشخبری ہے یا اک سانحہ ہے
اب تو ہر خواب پریشان ہوا جاتا ہے
بکھر گئے میرے خواب سارے
عام تھا مجھ کو خاص کر ڈالا
تیری آنکھ کا ایک اشارہ ہوتا ہے
زندگی کو اگر سمجھنا ہے
باغ کی شاخوں میں پھر خم آ جائے گا
گر ارادہ ہے ساتھ چلنے کا
غموں سے بھری اک کتاب ہے محبت
دولت نے ہرایا نہ وزیروں نے ہرایا
جب سے ہارے دکھائی دیتے ہیں
ہر طرف اضطراب دیکھا ہے
تیری راہ تک رہی ہیں میری بیقرار آنکھیں
دعا
رابطے سب بحال رکھے ہیں
وفا کے وعدے جو کرگیا تھا
وہ جو چپ کی زبان رکھتا تھا
اس کو دیکھا تو میری آنکھ سے برسے آنسو
دل کی بستی اجڑ گئی لوگو
حق کو حق کہنے کا ہم نے یہ اثر دیکھا ہے
ہر طرف اضطراب دیکھاہے
داغ گر چاند کا دنیا کو نظر آ جاتا
شاعر کے بارے میں
شاعر
مکمل تعارف پڑھیں
دیگر کلام
‹ مشورے خود کو دیے جاتا ہوں
‹ مری وفا پہ ترا اعتبار ختم ہوا
‹ جب وصل کے دن رہ چار گئے
‹ ہر طرف غم کی حکمرانی ہے
‹ مجھے تنہا ہی رہنا ہے
‹ کسی سے کوئی شکوہ اور نہ کوئی آرزو کرنا