7 اشعار

‏آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا

Aate aate aan jagaye mujh ko rela misraon ka

‏آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا

«‏آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

‏آتے آتے آن جگائے مجھ کو ریلا مصرعوں کا‏جاتے جاتے جان کھپائے یارو میلہ سوچوں کا

‏جلتے جلتے جم جاتا ہے تیکھا تیل تخیل کا‏بُجھتے بُجھتے ، بھڑکے پھر سے شعلہ شوخ خیالوں کا

‏لکھتے لکھتے لکھ ڈالے ہیں دفتر کتنے شعروں کے‏پڑھتے پڑھتے پڑھ جائے گا طوطا پڑھنے والوں کا

‏ہوتے ہوتے ہو جاتا ہے جیون آخر ہونے کو‏روتے روتے رک جاتا ہے پانی روتی آنکھوں کا

‏جھڑتے جھڑتے جھڑ جاتے ہیں پتّے سارے پت جھڑ میں‏پکتے پکتے پک جاتا ہے دھان کسان کے کھیتوں کا

‏سوتے سوتے جا پہنچوں میں جادو نگری خوابوں کی‏جاگوں تو پھر جاگتا جائے جوکھم جیتی جانوں کا

‏جاتے جاتے لے جاتی ہے ماتا دھاگا ممتا کا‏جس کے ساتھ وہ باندھے رکھتی ناطہ اپنے بچوں کا

— راشد ڈوگر