7 اشعار

‏اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے

Apne gham kya, doosron ke dukh satate hain mujhe

‏اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے

«‏اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے» راشد ڈوگر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

‏اپنے غم کیا، دوسروں کے دکھ ستاتے ہیں مجھے‏سُکھ سے سونا چاہتا ہوں، وہ جگاتے ہیں مجھے

‏دھند ہے اک درمیاں حائل کئی دنیاوں کے‏جن میں پنہاں راستے اکثر بلاتے ہیں مجھے

‏پاس میرے پھرتے چہرے اجنبی سمجھیں مجھے‏دُور وقتوں کے پیارے ملنے آتے ہیں مجھے

‏صدیوں پہلے گزرے لمحے گھیر لیتے ہیں مجھے‏لمحوں پہلے سوچے قصے چھوڑ جاتے ہیں مجھے

‏کوئی آنکھیں ہر سمے میرے تخیل میں رہیں‏خواب چہرے پار کے نغمے سناتے ہیں مجھے

‏شہر میں بستا ہوں پر باطن پرانا گاوں ہے‏خشت و پتھر میں دبے کھلیاں بلاتے ہیں مجھے

‏میرا مرشد عشق ہے انجام کا خطرہ نہیں‏رونا اِس دنیا کا ہے، مِل کر جھکاتے ہیں مجھے

— راشد ڈوگر